شرحِ سود میں کمی کے بعد پاکستان میں آٹو فنانسنگ میں نمایاں اضافہ
نومبر 2024 میں آٹو فنانسنگ کم ہو کر 235 ارب روپے کی سطح تک آ گئی تھی
شرحِ سود میں نرمی کے بعد پاکستان میں آٹو فنانسنگ میں زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے صارفین کی طلب میں بہتری کے واضح اشارے مل رہے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق آٹو فنانسنگ 33 ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور اس کا حجم 318 ارب روپے تک جا پہنچا ہے۔ آٹو فنانسنگ میں سالانہ بنیاد پر 36 فیصد جبکہ ماہانہ بنیاد پر 1 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اگرچہ موجودہ سطح میں نمایاں بہتری آئی ہے، تاہم آٹو فنانسنگ اب بھی جون 2022 کے 368 ارب روپے کے ریکارڈ سے تقریباً 14 فیصد کم ہے۔
واضح رہے کہ نومبر 2024 میں آٹو فنانسنگ کم ہو کر 235 ارب روپے کی سطح تک آ گئی تھی، جو حالیہ برسوں کی کم ترین سطح سمجھی جاتی ہے۔
ماہرین کے مطابق شرحِ سود میں کمی، بینکوں کی جانب سے نسبتاً آسان فنانسنگ شرائط اور صارفین کے اعتماد میں بحالی کے باعث آٹو فنانسنگ میں تیزی دیکھنے میں آ رہی ہے۔
یہ رجحان آٹو انڈسٹری کے لیے مثبت قرار دیا جا رہا ہے اور آنے والے مہینوں میں مزید بہتری کی توقع ظاہر کی جا رہی ہے۔