دوحہ : مزاحمتی فلسطینی تنظیم حماس نے اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی کو ترجیح قرار دیتے ہوئے ہتھیار منجمند اور محفوظ کرنے پر آمادگی ظاہر کردی۔
عالمی میڈیا کے مطابق حماس کے سیاسی بیورو کے رکن باسم نعیم نے کہا ہے کہ تنظیم اسرائیل کے ساتھ جنگ بندی معاہدے کے تحت اپنے ہتھیار “منجمد یا محفوظ کرنے” پر بات چیت کے لیے تیار ہے، تاکہ مزید تصادم اور کشیدگی سے بچا جا سکے۔
باسم نعیم نے قطر کے دارالحکومت دوحہ میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حماس ایک جامع فارمولے پر مذاکرات کے لیے آمادہ ہے۔
مزید پڑھیں: حماس نے ثالثوں سے اسرائیل پر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کردیا
انھوں نے کہا کہ ہم مزید کشیدگی یا ٹکراؤ سے بچنے کے لیے ایک جامع نقطۂ نظر اختیار کرنے پر کھلے ذہن سے غور کر سکتے ہیں۔
باسم نعیم کا کہنا تھا کہ حماس اپنے “مزاحمت کے حق” سے دستبردار نہیں ہو رہی، تاہم اگر یہ عمل فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب پیش رفت میں معاون ہو تو تنظیم اپنے ہتھیاروں کے استعمال کو روکنے، منجمد کرنے یا محفوظ رکھنے پر غور کر سکتی ہے۔
انہوں نے تجویز دی کہ اس مقصد کے لیے پانچ یا دس سالہ طویل المدتی جنگ بندی کی جا سکتی ہے تاکہ سنجیدہ اور جامع مذاکرات ممکن ہوں۔
انہوں نے واضح کیا کہ حماس جنگ بندی کے دوران اپنے ہتھیار استعمال نہ کرنے کی فلسطینی ضمانتوں کے ساتھ یقین دہانی کرا سکتی ہے، تاہم اسرائیل کے مکمل اسلحہ ترک کرنے کے مطالبے کو قبول کرنا آسان نہیں ہوگا۔
حماس رہنما کے مطابق جنگ بندی کے اگلے مرحلے میں غزہ کے مستقبل، اسرائیلی افواج کے انخلا، فلسطینی ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام، بین الاقوامی سکیورٹی فورس کی تعیناتی اور حماس کے اسلحے جیسے حساس معاملات زیرِ بحث آئیں گے۔
مزید پڑھیں: اسرائیل غزہ پر قبضہ ختم کرے تو ہتھیار پھینک دیں گے، حماس کا اعلان
باسم نعیم نے کہا کہ حماس غزہ کی سرحدوں پر جنگ بندی کی نگرانی کے لیے اقوام متحدہ کی فورس کو قبول کر سکتی ہے، تاہم تنظیم فلسطینی علاقوں کے اندر کسی بھی بیرونی فورس کے آپریشنل کردار کو تسلیم نہیں کرے گی۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ حماس اور فلسطینی اتھارٹی غزہ کے روزمرہ امور چلانے کے لیے ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی کے قیام پر پیش رفت کر چکے ہیں، جس کی سربراہی ایک فلسطینی کابینہ وزیر کریں گے۔
7 اکتوبر 2023 کے حملے سے متعلق سوال پر باسم نعیم نے اسے “دفاعی اقدام” قرار دیتے ہوئے کہا کہ تاریخ 7 اکتوبر سے شروع نہیں ہوتی، اور یہ ردعمل دہائیوں پر محیط پالیسیوں کے خلاف تھا۔
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ، قطر، مصر اور ترکی کی نگرانی میں جنگ بندی کے دوسرے اور زیادہ پیچیدہ مرحلے کی تیاری کی جا رہی ہے، جسے غزہ میں دیرپا امن کی جانب ایک نازک لیکن اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے۔
