برازیل: اقوام متحدہ کی COP30 موسمیاتی کانفرنس فوسل فیول کے خاتمے کا کوئی روڈ میپ دیئے بغیر اختتام پذیر ہوگئی۔
عالمی میڈیا کے مطابق کانفرنس میں موسمیاتی تبدیلی سے متاثرہ ممالک کو زیادہ مالی امداد فراہم کرنے پر اتفاق کیا گیا تاکہ وہ شدید موسمی حالات سے نمٹ سکیں۔
تاہم، اس معاہدے میں فوسل ایندھن کے مرحلہ وار خاتمے یا موجودہ ناکافی اخراج کم کرنے کے منصوبوں کو مضبوط بنانے کا واضح روڈمیپ شامل نہیں کیا گیا۔
مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلیاں:کوپ 28 کے اہداف کیلیے موثر اقدامات نہ کیے جانے کا انکشاف
کانفرنس کے میزبان برازیلی حکام نے کہا کہ وہ فوسل ایندھن سے ہٹنے کے لیے ایک علیحدہ روڈمیپ تیار کریں گے، جس میں کولمبیا جیسے سخت موقف رکھنے والے ممالک کے ساتھ کام کیا جائے گا۔
تاہم یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ معاہدے کے طور پر COP30 میں منظور ہونے والے کسی فیصلے کی طرح سخت اثر نہیں رکھے گا۔
کانفرنس کے صدر آندرے کوریا دو لاگو نے کہا کہ بیلیم میں شروع ہونے والی سخت مذاکراتی گفتگو اگلی سالانہ کانفرنس تک جاری رہیں گی، چاہے انہیں موجودہ معاہدے میں شامل نہ کیا گیا ہو۔
تنقید کرنے والوں نے اس معاہدے کو ناکافی اور کمزور قرار دیا ہے۔
مزید پڑھیں: موسمیاتی تبدیلی: ملکی ارلی وارننگ سسٹم بوسیدہ، گراؤنڈ واٹر خطرناک حد تک کم
گلوبل گرین پیس سے تعلق رکھنے والے سابق فلپائنی مذاکرات کار جاسپر انوینٹر نے کہاکہ یہ ایک کمزور نتیجہ ہے۔
پاناما کے مذاکرات کار جوان کارلوس مونٹیری گومیز نے کہاکہ ایک ایسا موسمیاتی فیصلہ جو حتیٰ کہ ‘فوسل ایندھن’ کا ذکر بھی نہ کرے، نہ صرف غیر مؤثر بلکہ آلودگی پھیلانے میں خود ملوث ہے۔
انھوں نے مزید کہا کہ یہاں جو کچھ ہو رہا ہے وہ محض نااہلی سے بڑھ کر ہے۔ سائنس کو COP30 سے خارج کر دیا گیا کیونکہ یہ آلودگی پھیلانے والوں کو ناگوار گزرتی ہے۔