شوگر سیکٹر کا بڑا اسکینڈل، آئی ایم ایف نے ایلیٹ کارٹل کی گٹھ جوڑ کہانی بے نقاب کر دی – بول نیوز

آئی ایم ایف کی گورننس اینڈ کرپشن ڈائگنوسٹک اسسمنٹ رپورٹ میں شوگر سیکٹر سے متعلق ہولناک انکشافات سامنے آ گئے، جنہوں نے ملک میں گورننس بحران، ریگولیٹری ناکامی اور بااثر طبقے کی مبینہ ملی بھگت کا پول کھول دیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق شوگر سیکٹر کو حکومتی پالیسیوں، سبسڈیز اور ریگولیٹری رعایتوں کے ذریعے غیر معمولی فائدہ پہنچایا گیا، جبکہ اس کا براہِ راست بوجھ عوام پر ڈالا گیا۔

 آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ شوگر مل مالکان کی حکومتی اداروں پر گرفت اس قدر مضبوط رہی کہ ’ری کمنڈڈ‘ گنے کی قیمتوں سے لے کر حفاظتی ڈیوٹیز تک تمام فیصلے ان ہی کے حق میں گئے۔

مصنوعی بحران، ذخیرہ اندوزی اور قیمتوں میں اضافہ— سب کچھ منصوبہ بندی کے تحت؟

رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ غیر مسابقتی پالیسیوں کے نتیجے میں شوگر ملز نے اربوں کا منافع کمایا، جبکہ چینی کی قیمتیں مسلسل بڑھتی رہیں۔

 شوگر مل مالکان نے ایکسپورٹ پالیسی اور پرائسنگ میکانزم کو بھی اپنے فائدے کے لیے استعمال کیا۔

آئی ایم ایف کے مطابق 2018–2019 کے دوران حکومتی فیصلے سے بڑے پیمانے پر چینی کی ایکسپورٹ اور سبسڈی دی گئی، جس کے نتیجے میں ملک میں چینی کی شدید قلت پیدا ہوئی اور قیمتیں آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔

شوگر کارٹل کے خلاف انکوائری میں چونکا دینے والے شواہد سامنے آئے۔

تحقیقات میں درج ذیل سنگین بےضابطگیوں کے شواہد ملے

مصنوعی بحران پیدا کرنے کی منصوبہ بندی

بڑے پیمانے پر ذخیرہ اندوزی

منی لانڈرنگ

فیک اکاؤنٹس کے ذریعے ناجائز منافع کی منتقلی

رپورٹ میں اس بات کی بھی تصدیق کی گئی ہے کہ شوگر سیکٹر سے متعلقہ کیسز میں ملک کی اہم سیاسی شخصیات کے نام بھی سامنے آئے۔

آئی ایم ایف کا سخت مؤقف: احتساب اب تک محدود، شوگر کارٹل آج بھی فعال

آئی ایم ایف نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنگین انکشافات کے باوجود احتساب نہ ہونے کے برابر ہے، جس سے واضح ہوتا ہے کہ طاقتور شوگر کارٹل نہ صرف محفوظ ہے بلکہ بدستور سرگرم بھی ہے۔

Related posts

لطیفہ بنٹ محمد مستقبل کے فٹ مہر کے ساتھ تین سرکاری منصوبوں کا اعزاز دیتا ہے

متحدہ عرب امارات اور ایکواڈور کے صدور دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کرتے ہیں

متحدہ عرب امارات کے صدر نے عراق کے کردستان خطے کے وزیر اعظم سے ملاقات کی