طاقتور گروہوں کی کرپشن معیشت کیلئے خطرناک قرار؛ وزارت خزانہ کی رپورٹ – بول نیوز

اسلام آباد: پاکستان نے آئی ایم ایف ایگزیکٹیو بورڈ کے اجلاس سے قبل بڑی شرط پوری کرتے ہوئے گورننس اینڈ کرپشن ڈائیگناسٹک اسیسمنٹ رپورٹ جاری کر دی، جو ملک میں کرپشن کو معاشی اور سماجی ترقی کی سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیتی ہے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ کے مطابق کرپشن کا دیرینہ مسئلہ پاکستانی معیشت کو شدید نقصان پہنچا رہا ہے اور طاقتور گروہوں کی بدعنوانی ملک کے لیے سب سے زیادہ خطرناک قرار دی گئی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ آئی ایم ایف سے بار بار قرض لینے کے باوجود بنیادی مسائل جوں کے توں برقرار ہیں۔

رپورٹ میں ٹیکس نظام، سرکاری اخراجات اور احتساب کے عمل میں متعدد خامیاں اجاگر کی گئی ہیں جبکہ عدالتی نظام میں بھی سنگین کمزوریوں کی نشاندہی کی گئی ہے، جن سے عوام کا اعتماد بری طرح متاثر ہوا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اینٹی کرپشن اداروں کی کمزور کارکردگی اور غیر مستقل احتساب کے باعث عوام میں یہ تاثر مضبوط ہوا ہے کہ طاقتور لوگ قانون سے بالاتر ہیں۔ نیب سمیت تمام احتسابی اداروں کو بااختیار اور جدید بنانے کی سفارش بھی کی گئی ہے۔

وزارت خزانہ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ11.1 فیصد کاروباروں نے کرپشن کو سب سے بڑی رکاوٹ قرار دیا جبکہ جنوبی ایشیا کا اوسط صرف 7.4 فیصد ہے، اس لحاظ سے پاکستان کی صورتحال بدتر ہے، کرپشن کے باعث سرکاری خرچ غیر مؤثر، ٹیکس وصولی کم اور عدالتی اعتماد شدید متاثر ہوا ہے۔

مزید پڑھیں: وزارت خزانہ کا آئی ایم ایف کی کرپشن اینڈ ڈائیگناسٹک اسسمنٹ رپورٹ پر عدم اطمینان

رپورٹ کہتی ہے کہ حکومتی فیصلہ سازی میں شفافیت نہ ہونے کے برابر ہے اور معاشی پالیسی سازی میں اسٹیک ہولڈرز کی شمولیت بھی نہیں ہوتی، جس سے کرپشن کے مواقع مزید بڑھتے ہیں۔

کاروباری ماحول سے متعلق رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ مارکیٹ ریگولیشن اور بینکنگ نگرانی میں سنگین خامیاں ہیں، پیچیدہ قوانین نئی سرمایہ کاری کی راہ میں رکاوٹ ہیں، غیر ملکی تجارت کے ضوابط ضرورت سے زیادہ سخت ہیں اور حکومتی پابندیوں سے نجی شعبہ اپنی پوری صلاحیت استعمال نہیں کر پا رہا۔

رپورٹ میں شفاف اور واضح کاروباری قوانین لانے، ریگولیشن کو مکمل طور پر ڈیجیٹل بنانے اور نجی شعبے کو زیادہ اختیارات دینے کی سفارش کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگر سفارشات پر موثر عمل درآمد کیا جائے تو پاکستان کی جی ڈی پی میں 5 سے 6.5 فیصد تک اضافہ ممکن ہے، تاہم وزارت خزانہ نے اسے ملکی ترقی کے لیے فیصلہ کن قدم قرار دیا ہے۔

یہ رپورٹ 7 ارب ڈالر کے آئی ایم ایف پروگرام کا لازمی حصہ ہے جبکہ رپورٹ تیار کرنے کے لیے آئی ایم ایف اور عالمی بینک نے 8 ماہ تک پاکستان کے گورننس اور کرپشن کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا۔

وزارت خزانہ کے مطابق حکومتی اقدامات کے نتیجے میں معیشت میں استحکام آرہا ہے، پرائمری سرپلس میں اضافہ، زرمبادلہ ذخائر میں بہتری اور مہنگائی میں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔

Related posts

سعودی عرب سے مؤخر ادائیگیوں پر تیل کی سہولت میں توسیع کی درخواست

ٹرمپ نے افغانستان کی بگرام ایئربیس لینے کا اعلان کردیا

بحرِ عرب میں خطرے کی گھنٹیاں، امریکی جنگی طیارے نے ایرانی ڈرون مار گرایا