واشنگٹن/تل ابیب: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر حماس نے جنگ بندی توڑی تو اس کو ختم کردیا جائے گا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر حماس کو سخت دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر فلسطینی گروپ نے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کا خاتمہ تیز، شدید اور ظالمانہ انداز میں کیا جائے گا۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے کئی ممالک نے ان سے رابطہ کرکے غزہ میں حماس کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی افواج بھیجنے کی پیشکش کی ہے۔
ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر بیان دیتے ہوئے کہاکہ ہمارے عظیم اتحادیوں (مشرقِ وسطیٰ اور اس کے گردونواح کے ممالک) نے مجھ سے کہا ہے کہ اگر میں کہوں تو وہ بھاری فوجی طاقت کے ساتھ غزہ میں داخل ہو کر حماس کو سیدھا کر دیں گے، بشرطیکہ حماس اپنے معاہدے کی خلاف ورزی جاری رکھے۔
امریکی صدر نے کسی ملک کا نام واضح طور پر نہیں لیا، تاہم انڈونیشیا کی خصوصی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ میں انڈونیشیا کے عظیم اور طاقتور ملک اور اس کے شاندار رہنما کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے مشرقِ وسطیٰ اور امریکہ کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق انڈونیشیا اور دیگر ممالک نے غزہ میں امن فوج بھیجنے کی پیشکش کی ہے تاکہ سلامتی اور استحکام بحال کیا جا سکے، تاہم کسی بھی ملک نے حماس کے خلاف براہِ راست لڑنے کی بات نہیں کی۔
ٹرمپ نے مزید کہا کہ ہزار سال میں مشرقِ وسطیٰ میں ایسی محبت اور اتحاد نہیں دیکھا گیا۔ یہ ایک خوبصورت منظر ہے۔ میں نے ان ممالک اور اسرائیل سے کہا ہے کہ ابھی نہیں! ابھی بھی امید ہے کہ حماس صحیح راستہ اختیار کرے گا۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر حماس نے معاہدے کی خلاف ورزی کی تو اس کا انجام انتہائی تیز اور تباہ کن ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق 10 اکتوبر کو شروع ہونے والی جنگ بندی کے بعد بھی اسرائیلی افواج نے تقریباً 100 فلسطینیوں کو شہید کیا ہے، جبکہ امدادی سامان کی فراہمی بھی سختی سے محدود ہے۔
غزہ میڈیا آفس کے مطابق جنگ بندی کے آغاز سے اب تک صرف 986 امدادی ٹرک داخل ہوئے ہیں، حالانکہ روزانہ 600 ٹرک کی اجازت دی گئی تھی۔
گزشتہ اتوار اسرائیلی حملوں میں درجنوں فلسطینی شہید ہوئے جس کے بعد امداد کی ترسیل بھی مکمل طور پر معطل کر دی گئی۔
اسرائیل نے الزام لگایا کہ دو اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکت کے پیچھے حماس کا ہاتھ ہے، تاہم فلسطینی گروپ نے اس الزام کو مسترد کر دیا۔
