پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان اسٹاف لیول معاہدے میں غیرمعمولی پیشرفت

اسلام آباد: پاکستان اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان دوسرے ششماہی اقتصادی جائزہ مذاکرات اختتام پذیر ہوگئے، تاہم فریقین کے درمیان اسٹاف لیول معاہدہ طے نہیں پا سکا۔

آئی ایم ایف کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان نے قرض پروگرام کی شرائط پر مجموعی طور پر مضبوط عملدرآمد کیا ہے جبکہ دونوں فریقین نے اسٹاف لیول معاہدہ طے کرنے کے لیے مزید پالیسی مذاکرات جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے پاکستانی معیشت میں استحکام کی کوششوں کو سراہا اور مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے پر زور دیا۔ مشن نے سیلاب متاثرین کی مدد کے لیے حکومت کے اقدامات کو بھی قابلِ قدر قرار دیا۔

مہنگائی کو مقررہ ہدف کے اندر رکھنے کے لیے سخت مالیاتی پالیسی برقرار رکھنے کی سفارش کی گئی۔ توانائی کے شعبے میں ریفارمز اور ریگولر ٹیرف ایڈجسٹمنٹ پر بھی اتفاق کیا گیا۔

اس کے علاوہ سرکاری اداروں کے حجم میں کمی، شفافیت میں بہتری، کاروباری ماحول کی بہتری اور کموڈیٹی مارکیٹس کی آزادی کے اقدامات بھی زیرِ غور آئے۔

اعلامیے میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے دوران موجودہ 37 ماہ کے قرض پروگرام کے ساتھ ساتھ موسمیاتی تبدیلی کے لیے 28 ماہ کے ’کلائمیٹ ریزیلیئنس ‘ پروگرام پر بھی بات چیت ہوئی۔

آئی ایم ایف نے موسمیاتی تبدیلی سے متعلق اصلاحات کے لیے پاکستان کی کوششوں پر اطمینان کا اظہار کیا۔ مشن سربراہ ایوا پیٹرووا نے کہا کہ پاکستان نے کئی شعبوں میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔

اعلامیے کے مطابق آئی ایم ایف مشن نے حالیہ سیلاب سے متاثرہ افراد سے ہمدردی کا بھی اظہار کیا ہے۔

Related posts

ابھیشیک شرما نے صفر پر آؤٹ ہونے کا ناپسندیدہ ریکارڈ برابر کردیا

پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ 2028 کے لیے براہ راست کوالیفائی کرلیا

وزیرستان کی ننھی فاسٹ بولر نے انٹرنیٹ ہلا دیا، جاوید آفریدی نے فوراً اپنی لیگ میں شامل کر لیا