ذرائع کے مطابق ن لیگ کو پیپلزپارٹی کے تحفظات دور کرنے میں تاحال ناکامی کا سامنا ہے۔
دوسری جانب پی پی نے اسمبلی میں تعاون کو تحفظات کی دوری سے مشروط کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ پیپلزپارٹی پارلیمنٹ کے اجلاسوں میں علامتی شرکت کرے گی، سینیٹ، قومی اسمبلی کی قانون سازی میں حصہ نہیں لے گی، پیپلزپارٹی اسمبلی اجلاس میں کورم کی نشاندہی پر نیوٹرل رہے گی، جبکہ سینیٹ، قومی اسمبلی میں کورم پورا کرنے کی ذمہ دار حکومت ہو گی۔
یہ بھی پڑھیں: وفاقی حکومت سے اختلافات برقرار؛ پیپلزپارٹی نے اہم فیصلہ کرلیا
حکومت اور پیپلزپارٹی کے درمیان مسلسل رابطے جار ی ہیں، اور مذاکرات میں جلد بریک تھرو کا امکان ہے۔
