راولپنڈی میں جدید سفری سہولت کے طور پر متعارف کرائی جانے والی 87 گرین الیکٹرک بسوں کی فراہمی فی الحال تاخیر کا شکار ہوگئی ہے۔
ذرائع کے مطابق مرکزی ٹرمینل اور چارجنگ پوائنٹس کی تیاری مکمل نہ ہونے کے باعث منصوبے کو فی الحال موخر کردیا گیا ہے۔
وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز کا 30 ستمبر کو متوقع دورہ راولپنڈی بھی اسی وجہ سے منسوخ کیا گیا تھا، جس کی نئی تاریخ بعد میں مقرر کی جائے گی۔ ابتدائی مرحلے میں 60 گرین الیکٹرک بسوں کا افتتاح ہونا تھا جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 27 بسیں فراہم کی جانی تھیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سابق واران اڈا کو مرکزی ٹرمینل بنانے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ پشاور روڈ پر بھی بس ٹرمینل کی تعمیر پر غور جاری ہے۔ اسی مقام پر پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور رکن قومی اسمبلی ملک ابرار احمد کے مطابق مستقبل میں ایک سرکاری اسپتال بھی تعمیر کیا جانا ہے۔
گرین الیکٹرک بسوں کے روٹس اور چارجنگ پوائنٹس کا معاملہ تاحال حل طلب ہے۔ منصوبے کے تحت معذور افراد، طلبہ اور بزرگ شہری مفت سفر کرسکیں گے، جبکہ دیگر مسافروں کے لیے کرایہ اسٹاپ ٹو اسٹاپ 20 روپے مقرر کیا گیا ہے۔
ملک ابرار احمد نے اس منصوبے کو عوام دوست اور ماحول دوست سہولت قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ روٹس کا تعین جلد مکمل کرلیا جائے گا اور شہریوں کو جدید سفری سہولت فراہم کی جائے گی۔
