صدر ٹرمپ کا غزہ جنگ کے خاتمے کے لیے پیش کردہ 20 نکاتی امن منصوبہ

امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایک 20 نکاتی تفصیلی امن منصوبہ پیش کر دیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ اگر دونوں فریقین اس پر متفق ہوجائیں تو غزہ کی جنگ فوری طور پر ختم ہوسکتی ہے۔ اس جنگ میں اب تک 66 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ غزہ پٹی تباہی کا شکار ہے۔

منصوبے کے مطابق، جنگ فوری طور پر رک جائے گی، اسرائیلی افواج پسپائی اختیار کریں گی اور 72 گھنٹوں کے اندر غزہ میں موجود تمام یرغمالیوں کو خواہ زندہ ہوں یا جاں بحق واپس کیا جائے گا۔ اس کے بدلے میں اسرائیل 250 عمر قید کے قیدیوں اور 1700 گرفتار شدہ فلسطینیوں (بشمول خواتین و بچوں) کو رہا کرے گا۔

غزہ کو ایک “انتقالی ٹیکنوکریٹک حکومت” کے تحت چلایا جائے گا جس میں حماس کا کوئی کردار نہیں ہوگا۔ اس عبوری نظام کی نگرانی ایک بین الاقوامی ادارہ “بورڈ آف پیس” کرے گا جس کی سربراہی صدر ٹرمپ کریں گے، جب تک کہ فلسطینی اتھارٹی اصلاحات کے بعد کنٹرول سنبھالنے کے لیے تیار نہ ہوجائے۔

یقینی بنایا جائے گا کہ غزہ ایک غیر عسکری اور پرامن خطہ بنے، جہاں عسکری ڈھانچے، سرنگیں اور اسلحہ سازی ختم کردی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے ایک بین الاقوامی نگران فورس (International Stabilization Force) تعینات کی جائے گی جو فلسطینی پولیس کو تربیت دے گی اور سرحدی سیکیورٹی میں مصر و اردن کے ساتھ تعاون کرے گی۔

منصوبے کے دیگر نکات میں غزہ کی فوری بحالی، انفراسٹرکچر کی تعمیر، ہسپتالوں اور ضروری سہولیات کی فراہمی، ایک خصوصی معاشی زون کا قیام، بین المذاہب مکالمہ اور بالآخر فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار کرنے کا وعدہ شامل ہے۔

Related posts

متحدہ عرب امارات کے صدر نے دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے پیراگوئے کے صدر سے ملاقات کی

متحدہ عرب امارات کے صدر نے نوجوان رہنماؤں کے لئے عرب اجلاس سے وفد کا خیرمقدم کیا

محمد بن راشد نے جی سی سی سکریٹری جنرل – متحدہ عرب امارات سے ملاقات کی