ہم بھارت کو سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار ہرگز استعمال کرنے نہیں دینگے ، وزیراعظم شہباز شریف

 ہم بھارت کو سندھ طاس معاہدے کو بطور ہتھیار ہرگز استعمال کرنے نہیں دینگے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے کہاہے کہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر مسئلہ کشمیر اور فلسطین پر کھل کر پاکستانی موقف پیش کیا۔ 

انہوں نے غزہ میں جاری نسل کشی کو اسرائیل کی کھلی جارحیت قرار دیا۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت کی جانب سےغزہ میں جاری  بربریت کی کھل کر مذمت کی۔

وزیر اعظم نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے کہا ہے کہ پاکستان ظلم و ستم کے ذریعے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبا نہیں سکے گا۔

شہباز شریف نے غزہ ،کشمیر اور معرکہ حق کے حوالے سے  انتہائی جذباتی خطاب کیا۔ انہوں نے اسرائیل کے قطر پر حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے بدمعاش رویہ قراردیا۔

انہوں نے کہاکہ  پاکستان پرامن بقائے باہمی اورتنازعات کے سفارتی حل پر یقین رکھتا ہے تاہم کسی بھی جارحیت کی صورت میں ملک اپنے دفاع کے لئے فیصلہ کن اقدامات کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔

قرآن پاک کی تلاوت سے خطاب کا آغاز

وزیراعظم نے اپنی تقریر کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت سے کیا۔ جنرل اسمبلی کی صدر کو اجلاس کی صدارت پر مبارکباد پیش کی۔

انہوں نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کی قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشکل ترین حالات میں ان کی جرات مندانہ رہنمائی قابل ستائش ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ آج دنیا پہلے سے کہیں زیادہ پیچیدہ ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہاکہ تنازعات شدت اختیار کر رہے ہیں اور عالمی قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزی جاری ہے۔

ان کاکہناتھاکہ انسانی بحران بڑھ رہے ہیں جبکہ دہشت گردی ایک بڑے خطرے کے طور پر ابھر چکی ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ گزشتہ سال اسی پلیٹ فارم سے دنیا کو خبردار کیا تھا کہ پاکستان کسی بھی جارحیت پر فیصلہ کن اقدام کرے گا، اور مئی میں مشرقی محاذ پر دشمن کی جارحیت کے وقت یہ الفاظ سچ ثابت ہوئے۔

غرور میں مبتلا دشمن کو مئی میں ذلت کا سامنا کرنا پرا

انہوں نے کہا کہ غرور میں مبتلا دشمن کو ذلت کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کا کہناتھاکہ بھارت نے پہلگام واقعے کی تحقیقات میں تعاون سے انکار کیا اور انسانی المیے کو سیاسی فائدے کے لیے استعمال کرنے کی کوشش کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے شہری علاقوں پر حملے کر کے معصوم جانوں کو نشانہ بنایا اور پاکستان کی سرحدی سالمیت کی خلاف ورزی کی۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 51 کے تحت اپنے دفاع کا حق استعمال کیا۔

انہوں نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں مسلح افواج نے جرات اور پیشہ ورانہ مہارت کا مظاہرہ کیا جبکہ ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر کی قیادت میں شاہینوں نے دشمن کے سات جنگی طیاروں کو تباہ کر کے تاریخ رقم کی۔

وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے جانبازوں اور شہداء نے بے مثال قربانیاں دیں۔

انہوں نے کہا کہ ہم شہداء کے ورثاء کو سلام پیش کرتے ہیں، ان کے نام عزت و وقار کے ساتھ ہمیشہ زندہ رہیں گے اور شہدا کی ماؤں کے حوصلے ہمارے راستے کو روشن کرتے رہیں گے۔

انہوں نے عزم ظاہر کیا کہ ہمارے شہداء کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔

Related posts

فروری کا مہینہ ہانیہ عامر کیلئے خاص کیوں؟

مادھوری کے گانے پر امر خان کو بولڈ لباس میں رقص کرنا مہنگا پڑ گیا

محمد بن راشد کا جائزہ دبئی کے نیلے اور گرین اسپیس روڈ میپ 2030 – متحدہ عرب امارات