آئی ایم ایف سے جائزہ مذاکرات میں بڑے ریلیف کی حکومتی کوششیں تیز، وزیراعظم شہباز شریف نے آئی ایم ایف سے زیادہ سے زیادہ ریلیف لینے کی ہدایت کردی۔
ذرائع کے مطابق حکومت نے عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے جائزہ مذاکرات میں بڑے ریلیف کی کوششیں تیز کرتے ہوئے مذاکرات میں منی بجٹ سے بچانے کےلیے متبادل ذرائع سے آمدن بڑھانے کی تیاریاں شروع کر دی ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کو منی بجٹ کی بجائے ٹیکس اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کرکے آمدن بڑھانے پر آمادہ کیا جائے گا، جبکہ وزارت خزانہ آئی ایم ایف کو سیلاب کے نقصانات کی وجہ سے ریلیف پر آمادہ کرنے کی کوشش کرے گی۔
یہ بھی پڑھیں: سیلاب متاثرین کو بجلی بلوں میں ریلیف دینے کیلئے آئی ایم ایف سے رابطے کی ہدایت
مذاکرات کے دوران آئی ایم ایف سے سیلاب متاثرین کے لیے ستمبر میں بھی بجلی کے بلوں اور زرعی قرضوں کی ادائیگی کے علاوہ ٹیکس ہدف میں کمی کی کوشش بھی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کو ایف بی آر کے ٹیکس شارٹ فال اور سیلاب کی وجہ سے ٹیکس آمدن متاثر ہونے پر بریفنگ دی جائے گی۔
آئی ایم ایف سے معاشی ترقی کی شرح کے ہدف میں معمولی کمی پر بھی تبادلہ خیال کیا جائے گا، جبکہ مزید ٹیکس نہ لگانے پر بھی رعایت کی کوشش کی جائے گی۔
ذرائع نے بتایا کہ سیلاب کے نقصانات کی وجہ سے وفاقی حکومت کے اخراجات میں ممکنہ اضافے سے متعلق امور پر بھی غور ہوسکتا ہے۔
