کابل: طالبان حکومت نے افغانستان کے صوبے بلخ میں فائبرآپٹک انٹرنیٹ سروس اچانک بند کر دی، جس کے باعث کاروبار زندگی مفلوج ہو کر رہ گیا ہے۔
صوبائی ترجمان کے مطابق انٹرنیٹ سروس کی بندش طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخونزادہ کے حکم پر کی گئی ہے۔ ترجمان نے دعویٰ کیا کہ وائی فائی اور فائبرآپٹک سروس بند کرنے کا مقصد غیر اخلاقی سرگرمیوں کی روک تھام ہے۔
انٹرنیٹ کی بندش کے نتیجے میں صوبے میں اہم سرکاری ادارے مفلوج ہو گئے ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق پاسپورٹ آفس، کسٹمز اور دیگر ای-گورننس سسٹمز شدید متاثر ہوئے ہیں۔
مقامی صحافیوں اور انسانی حقوق کے اداروں نے اس اقدام کو اظہار رائے دبانے کا نیا حربہ قرار دیا ہے۔ ان کے مطابق انٹرنیٹ پر پابندی بنیادی انسانی آزادیوں پر حملہ ہے اور اس سے عوام کو عالمی دنیا سے کاٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
افغان میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ چھ وزراء قندھار میں طالبان سپریم لیڈر کو ان فیصلوں کے منفی اثرات سے آگاہ کریں گے، کیونکہ طالبان رہنماؤں میں سخت پابندیوں پر اختلافات کھل کر سامنے آ رہے ہیں۔
بلخ کے شہریوں کا کہنا ہے کہ افغان ٹیلی کام کی تمام سروسز معطل ہونے سے روزمرہ زندگی مفلوج ہوگئی ہے، کاروبار، تعلیم اور سرکاری امور بری طرح متاثر ہیں۔
