امریکی میڈیا کے مطابق امریکی معیشت پہلے ہی مہنگائی، ٹیرف (درآمدی محصولات) اور حکومتی شٹ ڈاؤن کے باعث نقصان اٹھا چکی ہے۔
موجودہ صورتحال میں امریکا کی معیشت کسی ایکشن فلم کے ہیرو کی طرح ہے جو آخری لمحات میں زخمی ضرور ہے لیکن پھر بھی مضبوطی سے کھڑی ہے۔
امریکا کی نیوز ویبسائٹ کے مطابق ضدی مہنگائی، عالمی سطح پر لگائے گئے بھاری ٹیرف اور ایک ریکارڈ ساز حکومتی بندش کے باوجود امریکا کسی کساد بازاری (ریسیشن) سے بچنے میں کامیاب رہا ہے۔ تاہم لیبر مارکیٹ میں کمزوری کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں، کیونکہ فروری میں امریکی کمپنیوں نے 92 ہزار نوکریاں کم کیں۔
لیکن اب معیشت کو سب سے بڑے چیلنج کا سامنا ہے: ایران کے ساتھ مہنگی جنگ۔ ایران مشرق وسطیٰ کی ایک اہم علاقائی طاقت ہے اور اس کی جغرافیائی حیثیت دنیا کی سب سے اہم سمندری توانائی گزرگاہ کے ساتھ جڑی ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق جنگ کے اثرات پہلے ہی سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ دو کانگریسی ذرائع کے مطابق امریکا پر اس جنگ کا روزانہ خرچ تقریباً ایک ارب ڈالر ہے۔ تیل کی قیمتیں مزید بڑھنے کی توقع ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت پہلے ہی 3.32 ڈالر فی گیلن تک پہنچ چکی ہے، جو ٹرمپ کے دونوں ادوار میں بلند ترین سطح ہے۔ امکان ہے کہ یہ قیمت مزید بڑھے گی۔
تیل اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات دیگر شعبوں تک بھی پھیلیں گے۔ ٹرانسپورٹ کے لیے ٹرکوں پر انحصار کرنے والی اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔ ہوائی ٹکٹ، گروسری اور بجلی کے بل بھی بڑھ سکتے ہیں اگر جنگ طویل ہو گئی۔
جنگ نے رواں سال تیل کی کم قیمتوں کی توقعات کو تقریباً ختم کر دیا ہے۔ ماہرین پہلے توقع کر رہے تھے کہ برینٹ کروڈ 2026 میں تقریباً 60 ڈالر فی بیرل رہے گا، مگر تنازع کے بعد قیمت بڑھ کر 93 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
امریکی میڈیا کے مطابق گیلمن سیکس نے بدترین صورتحال کا اندازہ لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچی تو یہ چند ہفتوں میں ممکن ہے، خاص طور پر اگر ایران آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل روک دے۔ بعد میں ادارے نے پیش گوئی مزید سخت کر دی اور کہا کہ قیمت جلد ہی تین ہندسوں میں داخل ہو سکتی ہے۔
موڈیز اینالیٹکس کے چیف اکانومسٹ مارک زانڈی کے مطابق ہر 10 ڈالر فی بیرل اضافے پر پیٹرول کی قیمت میں تقریباً 25 سینٹ فی گیلن اضافہ ہوتا ہے۔
ایران کے حکمران نظام کو عالمی تیل کی قیمتیں بڑھانے میں بھی حکمت عملی کا فائدہ ہو سکتا ہے تاکہ اپنی بقا کو یقینی بنایا جا سکے۔ ایرانی فوج پہلے ہی خلیج میں بجلی گھروں اور آئل ریفائنریوں کو نشانہ بنا چکی ہے۔
قطر نے خبردار کیا ہے کہ اگر آبنائے ہرمز بند ہوئی تو تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک جا سکتی ہے۔
جنگ مزید پھیل رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکا چار سے پانچ ہفتے تک فضائی اور بحری کارروائیاں جاری رکھ سکتا ہے اور دفاعی وزیر نے آٹھ ہفتے کی جنگ کا امکان ظاہر کیا ہے۔
ٹرمپ نے افورڈ ایبلٹی (سستی معیشت) کے نعرے کو کبھی اہم مسئلہ قرار دیا تھا، مگر اب پیٹرول کی ممکنہ قیمتوں میں اضافے کو کم اہم ظاہر کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جنگ ختم ہونے کے بعد قیمتیں تیزی سے نیچے آ جائیں گی، تاہم ماہرین کہتے ہیں کہ پیٹرول کی قیمتیں راکٹ اور پنکھ کی طرح بڑھتی اور کم ہوتی ہیں، یعنی تیزی سے بڑھتی ہیں مگر آہستہ آہستہ کم ہوتی ہیں۔
امریکا اب پہلے کے مقابلے میں تیل کے جھٹکے کو بہتر برداشت کر سکتا ہے کیونکہ وہ خود دنیا کا بڑا تیل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ لیکن اس کے باوجود وہ مکمل طور پر محفوظ نہیں۔
آبنائے ہرمز صرف تیل ہی نہیں بلکہ کھاد کی ترسیل کے لیے بھی اہم ہے۔ جنگ سے پہلے ہی کھاد کی قیمتیں زیادہ تھیں، جس سے امریکی کسان متاثر ہو رہے تھے۔ اب یوریا (نائٹروجن کھاد) کی قیمت میں اضافے سے کسانوں پر مزید دباؤ ہے، جو مستقبل میں سیاسی اثرات بھی ڈال سکتا ہے۔
کمپنیوں نے گزشتہ سال ٹیرف سے بچنے کے لیے سپلائی چین تبدیل کی تھی، مگر جنگ نے ایک بار پھر صورتحال بدل دی ہے۔ دنیا کی پانچ بڑی شپنگ کمپنیوں نے خلیج میں اپنی سرگرمیاں معطل کر دی ہیں اور جہازوں کو جنوبی افریقا کے کیپ آف گڈ ہوپ کے راستے بھیجا جا رہا ہے۔ اس سے ہر کنٹینر پر 1500 سے 3500 ڈالر اضافی خرچ آ رہا ہے۔
ٹرمپ انتظامیہ ٹیرف نظام کو دوبارہ مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے، جسے سپریم کورٹ نے پہلے چیلنج کیا تھا۔ اگر جنگ طویل ہوئی تو خوراک، فرنیچر اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ مزید تیز ہو جائے گا۔
ٹرمپ یورپی اتحادیوں پر بھی سخت تنقید کر رہے ہیں۔ حال ہی میں اسپین نے امریکی جنگی طیاروں کو اپنے اڈے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی تو ٹرمپ نے تجارتی تعلقات منقطع کرنے کی دھمکی دی۔
اس کے باوجود امریکی معیشت مکمل طور پر کمزور نہیں ہوئی۔ ماضی میں بھی اس نے کساد بازاری کی پیش گوئیوں کو غلط ثابت کیا ہے، جیسا کہ 2023 میں ہوا۔
تاہم جنگ جتنی طویل ہوگی، معیشت پر دباؤ اتنا ہی بڑھے گا۔ یہ ابھی واضح نہیں کہ معیشت مزید مضبوطی سے کھڑی رہتی ہے یا مشرق وسطیٰ کی ایک اور جنگ اسے گرا دیتی ہے۔
