ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ اپنے دوسرے اور اہم مرحلے سپر ایٹ میں داخل ہوچکا ہے جس کاآغاز ہفتے کو پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان میچ سے ہوگا جو کولمبو کے پریماداسا اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔
سپر ایٹ مرحلہ کو دو گروپ میں تقسیم کیا گیاہے، ابتدائی چار گروپوں کی پہلی دو ٹیمیں سپر ایٹ مرحلہ میں پہنچی ہیں پہلے سے طے شدہ فارمولے کے تحت جو ٹیمیں اپنے گروپ میں پہلے پوزیشن پر پہنچی انہیں ایک گروپ میں رکھا گیا ہے جو اپنے تمام میچز انڈیا میں کھیلیں گی جبکہ دوسری پوزیشن پر رہنے والی ٹیمیں سری لنکا میں اپنے میچز کھیلیں گی اس تقسیم نے بہت سے سوالات قائم کردئیے ہیں کہ اگر گروپ اے سے پاکستان سرفہرست رہتا تو کیاوہ انڈیاجاتا اور انڈیا اپنے میچز سری لنکا میں کھیلتا ؟
سپر ایٹ پر تنقید
سپر ایٹ کے دو گروپ بنانے میں جس طریقہ کار کو اپنایا گیا وہ ناقابل فہم ہے اگر چار ٹیمیں شاندار کرکٹ کھیل کر اپنے گروپ کے تاجدار بن کر سپر ایٹ مرحلے میں آرہے ہیں تو انہیں اس مرحلہ پر ایک مساوی مقابلہ کا میدان ملنا چاہیے تھا لیکن اب ان کے لیے مقابلہ مزید سخت ہوگیا اور صرف دو ہی ٹیمیں ہی سیمی فائنل تک جائیں گی لیکن دوسرے گروپ میں بمشکل سپر ایٹ تک پہنچنے والے باآسانی فائنل تک ہہنچ جائیں گے سب سے بڑی زیادتی سری لنکا کے ساتھ ہوگی جو اگر سیمی فائنل میں پہنچتا ہے تو انڈیا میں کھیلنا ہوگا۔
آئی سی سی نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا ہے کہ سپر ایٹ مرحلے کی حتمی شکل گروپ میچز کے درمیان کی گئی تاکہ لاجسٹک کے مسائل سے نبٹ سکیں سپر ایٹ کے مرحلے میں سب سے آخر میں پہنچنے والی ٹیم سری لنکا کا زمبابوے سے شکست کھاجانا اس بات کی تصدیق کررہا ہے کہ سری لنکا کو اس شکست کی ضرورت تھی۔
آئی سی سی کے غیر تسلی بخش جواب کے بعد شاید درست الزام عائد کیا جارہا ہے کہ سپر ایٹ کے دو گروپ میں کچھ ٹیموں کے لیے سیمی فائنل تک پہنچنا آسان ہوگا کیونکہ اب پاکستان یا سری لنکا کو ساؤتھ افریقہ یا ویسٹ انڈیز کا مقابلہ نہیں کرنا پڑے گا جو اس ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہے ہیں۔
اس سے بھی بڑا الزام ابتدائی مرحلہ میں گروپ کی تشکیل پر تھا 20 ٹیموں کو چار گروپ میں تقسیم کیا گیا تین گروپوں میں تین ٹیسٹ پلئینگ ٹیمیں رکھی گئی لیکن انڈیا اور پاکستان کے گروپ میں تیسری کوئی ٹیسٹ پلئینگ نہیں رکھی گئی یہ اس بات کو یقینی بنانے کی حکمت عملی تھی کہ دونوں ممالک ہر صورت میں سپر ایٹ مرحلہ میں پہنچ سکیں۔
کون زیادہ طاقتور ہوگا
یہ اندازہ لگانا بہت مشکل ہے کہ کون سی ٹیم سب سے زیادہ مضبوط ہے لیکن ساؤتھ افریقہ اور ویسٹ انڈیز نے جس انداز کی کرکٹ کھیلی ہے اس سے یہ دونوں ٹیمیں بہت مضبوط نظر آتی ہیں، ساؤتھ افریقہ کی اصل طاقت ان کا جارحانہ انداز ہے اور اسپن پچز پر ان کی مہارت قابل دید ہے۔
افغانستان کے خلاف ان کا میچ اس عشرہ کا سب سے زیادہ دلچسپ میچ تھا جو دو دفعہ سپر اوور تک گیا دونوں ٹیموں نے اپنی کرکٹ صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا، افغانستان کی ٹیم بدقسمت رہی کہ اس کے گروپ میں اس کا مقابلہ دو انتہائی مضبوط ٹیموں کے ساتھ تھا جس کے باعث وہ محض ایک خراب میچ کھیل کر ٹورنامنٹ سے باہر ہوگئے جبکہ دوسرے گروپ میں بری کرکٹ کھیل کر بھی انگلینڈ سپر ایٹ میں پہنچ گیا گروپ بنانے والوں کو شاید اچھی کرکٹ سے زیادہ براڈکاسٹرز کے پیسوں کی فکر ہے۔
مزکورہ بالا آٹھ ٹیموں کی طاقت کاجائزہ لیا جائے تو سب سے مستحکم کارکردگی انڈیا کی رہی ہے جس نے اپنے چاروں میچ باآسانی جیت لیے اس کی بولنگ اور بیٹنگ متوازن ہے لیکن ان کے جارحانہ اوپنر ابھیشک شرما کی ناکامی قابل تشویش ہے وہ ابھی تک کھاتہ بھی نہیں کھول سکے ہیں تاہم اشان کشان اور سوریاکمار یادو نے کمی پوری کررکھی ہے۔
دوسری ٹیم جو سب سے زیادہ خطرناک ہے وہ ساؤتھ افریقا ہے ٹیم بہت ہی متوازن ہے مارکرم ڈی کوک اور رکیلٹن بہت اچھی فارم میں ہیں جبکہ بولنگ بھی بہت مضبوط ہے ربادا نگیڈی جانسن اور مہاراج بہت عمدہ بولنگ کررہے ہیں۔
ٹورنامنٹ میں تیسری ٹیم جس نے سب کو حیران کردیا ہے وہ زمبابوے ہے ٹورنامنٹ سے قبل اس کی شرکت بہت مشکل سے ممکن ہوئی اور پھر نئے ٹیلنٹ کی کمی کے باعث ٹیم کا توازن بگڑا ہوا ہے لیکن انہوں نے جس قسم کی کرکٹ کھیلی اس نے سب کو متاثر کردیا آسٹریلیا کو جس اندازمیں شکست دی وہ قابل دید تھا برائن بینٹ سکندر رضا اور رائن برل اچھی بیٹنگ فارم میں ہیں جبکہ بلیسنگ مرزابانی اور دوسرے بولرز اچھی بولنگ کررہے ہیں یہ ٹیم گروپ مرحلے میں ناقابل شکست رہی اور آگے بھی اپ سیٹ کرسکتی ہے۔
ٹورنامنٹ میں خاموشی سے جو ٹیم اپناسفر طے کررہی ہے وہ ویسٹ انڈیز ہے ایک اچھے توازن کے ساتھ ویسٹ انڈیز خطرناک ٹیم بن چکی ہے ردھر فورڈ شائی ہوپ روسٹن چیس اور جیسن ہولڈر کسی بھی وقت اتنے خطرناک بلے باز بن سکتے ہیں کہ کسی بھی بولنگ کو روند دیں۔
نیوزی لینڈ کی ٹیم بھی خطرناک روپ میں ہے ایک متوازن ٹیم ہے اور سیمی فائنل تک یقینی طور پر پہنچے گی ٹم سائفرٹ اور کپتان سانٹنز کاکردار بہت اہم ہوگا۔
میزبان ملک سری لنکا نے اب تک شاندار کرکٹ کھیلی ہے لیکن آخری میچ میں زمبابوے سے شکست نے فینز کو تشویش میں مبتلا کردیا ہے ناشانکا ٹیم میں اینکر کا کردار اداکررہے ہیں لیکن بولنگ میں سری لنکا کو کچھ مشکلات ہیں ویلیگیڈاکی اسپن بولنگ ہی ٹرمپ کارڈ ہے لیکن ٹیم کے لیے سیمی فائنل تک پہنچنا آسان نہ ہوگا۔
انگلینڈ اور پاکستان وہ دو ٹیمیں ہیں جو خراب کارکردگی کے باوجود سپر ایٹ مرحلہ میں پہنچ گئی ہیں۔ انگلینڈ نے شروع سے بہت خراب کرکٹ کھیلی، بیٹنگ جمود کا شکار ہے جبکہ بولنگ میں اچھے اسپنرز کا نہ ہونا ٹیم کے لیے مشکلات کا سبب بن چکا ہے انگلینڈ کے لیے شاید سپر ایٹ سے آگے جانا مشکل ہوگا۔
پاکستانی ٹیم بھی قسمت کے سہارے سپر ایٹ میں پہنچی ہے انڈیا کے خلاف بدترین کارکردگی تو روایت کا حصہ ہے لیکن نیدرلینڈز کے خلاف ٹیم ہارتے ہارتے بچ گئی اگر فہیم اشرف کا آسان کیچ پکڑ لیا جاتا تو آج پاکستانی کھلاڑی اپنے گھروں میں ٹی وی پر میچ دیکھ رہے ہوتے پاکستان کو آسان گروپ دیا گیا تاکہ ٹیم کسی بھی طرح آگے پہنچ جائے۔
پاکستان نے اپنے تین میچ خراب کھیلے لیکن نمیبیاکے خلاف صاحبزادہ فرحان نے ٹی ٹوینٹی کی پہلی سنچری اسکور کی جس سے ان کو کافی حوصلہ ملاہوگا لیکن صائم ایوب بابر اعظم اور سلمان علی آغابیٹنگ میں اب تک ناکام ہیں البتہ اسپن بولنگ میں پاکستان چھایاہوا ہے عثمان طارق ابرار اور نواز کی بولنگ نیوزی لینڈ کے خلاف خطرناک ثابت ہوسکتی ہے نیوزی لینڈ کے جارحانہ بلے بازوں کے لیے ان اسپنرز کو کھیلنا آسان نہ ہوگا۔
پاکستان کی جیت کاسارادارومداد اسپن بولرز پر ہے پاکستان حتمی طور پر آج کے میچ میں پانچ اسپنرز کے ساتھ کھیلے گا جبکہ شاہین آفریدی کی جگہ سلمان مرزاکھیل سکتے ہیں پاکستان ممکنہ طور پر فہیم اشرف کی جگہ فخر زمان کو شامل کرسکتا ہے۔
اگر ان آٹھ ٹیموں کا مجموعی جائزہ لیا جائے تو ساؤتھ افریقہ اور انڈیا گروپ ایک سے جبکہ نیوزی لینڈ اور سری لنکا یا پاکستان دوسرے گروپ سے سیمی فائنل کی ٹیمیں ہوسکتے ہیں۔
سپر ایٹ مرحلہ اپنے تمام متنازعہ فیصلوں کے باوجود ایک بھرپور اور جارحانہ کرکٹ کے نظارے فراہم کرے گا افسوس اس بات کا ہے کہ دنیائے کرکٹ کی سب سے کامیاب ٹیم آسٹریلیا اس کا حصہ نہیں ہوگی۔ آسٹریلیا نے بلا شک وشبہ بہت بری کرکٹ کھیلی غیر سنجیدہ اور منصوبہ بندی سے عاری۔ زیادہ ترکھلاڑی عمر رسیدہ ہوچکے ہیں اور نیا ٹیلنٹ آسٹریلیا کی روایات کے برعکس ہے کمزور اور بے ترتیب، کچھ اہم کھلاڑی دستیاب بھی نہیں تھے جس سے ٹیم کاتوازن بگڑگیا اور زمبابوے جیسی ٹیم ہراکر چل دی۔
یہی کرکٹ کا لطف ہے کہ کبھی بڑی ٹیمیں زمین پر اور چھوٹی ٹیمیں آسمان پر پہنچ جاتی ہیں۔ سپر ایٹ کا پرجوش اور امنگوں سے بھرپور مرحلہ آج سے شروع ہورہا ہے تو پھر تیار ہوجائیے اور ایک شاندار کرکٹ کی تفریح لیجیے۔
