بھارت کے سیاسی اثر رسوخ نے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کی ساکھ کو متاثر کردیا، نیویارک ٹائمز
ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بائیکاٹ اور شیڈول میں تبدیلیوں سے اس کی ساکھ اور مالی استحکام کو خطرہ ہے، نیویارک تائمز
نیویارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ سیاسی اختلافات، سفارتی تناؤ اور بھارت کے کھیل پر اثر رسوخ کی وجہ سے متنازعہ ہوگیا ہے۔
نیویارک ٹائمز کا کہنا ہے کہ بھارت اور سری لنکا کی مشترکہ میزبانی میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں بائیکاٹ اور شیڈول میں آخری لمحے میں ہونے والی تبدیلیوں نے اس کی ساکھ اور مالی استحکام کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ بنگلادیش نے بھارت میں کھیلنے سے انکار کیا جس پر اسے ٹورنامنٹ سے ہٹادیا گیا اور اس کی جگہ اسکاٹ لینڈ کو شامل کیا گیا۔
اس کے بعد پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے بنگلادیش کے ساتھ یکجہتی کرتے ہوئے بھارت کے خلاف 15 فروری کو کولمبو میں ہونے والے میچ سے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
نیویارک ٹائمز نے کہا کہ ان میچز کے مالی اثرات بھی سنگین ہیں کیونکہ پاک بھارت میچ کرکٹ کا سب سے قیمتی مقابلہ سمجھا جاتا ہے جس سے تقریباً 250 ملین ڈالر کی آمدنی متوقع ہے اور اگر میچ نہ ہو تو آئی سی سی کو شدید مالی نقصان ہوسکتا ہے۔
خبر رساں ادارے نے بتایا کہ بھارت کی میڈیا رائٹس ہولڈر جیو اسٹار بھی تین ارب ڈالر کے براڈکاسٹ معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کی کوشش کررہی ہے۔
رپورٹ میں تاریخی اور سیاسی پس منظر بھی شامل ہے۔ بھارت اور پاکستان نے 2013 کے بعد دوطرفہ سیریز نہیں کھیلی ہے جب کہ 2024 میں شیخ حسینہ واجد کو ہٹانے کے بعد سے بھارت کے بنگلادیش کے ساتھ تعلقات بھی خراب ہیں۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق بھارت کرکٹ کے عالمی منافع کا تقریباً 80 فیصد پیدا کرتا ہے اور آئی سی سی کے تمام منافع میں اسے تقریباً 40 فیصد کا حصہ ملتا ہے جب کہ انگلینڈ کو سات فیصد سے کم ملتا ہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ بھارت کی یہ برتری کرکٹ کی غیر جانبداری اور آئی سی سی کی شفافیت پر سوالات پیدا کررہی ہے۔
