افغان شہری کے حملے کے بعد امریکا نے تمام افغان امیگریشن درخواستیں معطل کر دیں
اب افغانستان سے صدر بائیڈن کے دور میں آنے والے ہر ایک شخص کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا
وائٹ ہاؤس کے قریب نیشنل گارڈز کے دو اہلکاروں پر ہونے والی فائرنگ کے واقعے کے بعد امریکی حکومت نے افغان شہریوں کی تمام امیگریشن درخواستوں کی پروسیسنگ فوری طور پر معطل کر دی ہے۔
یہ فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب حملے کے مرکزی ملزم کی شناخت ایک افغان شہری کے طور پر ہوئی۔
امریکی امیگریشن سروسز نے اعلان کیا کہ سیکیورٹی اور ویٹنگ پروٹوکولز کا ازسرِ نو جائزہ لینے تک افغان درخواستوں پر کارروائی نہیں کی جائے گی۔
گزشتہ روز ہونے والے اس حملے میں دو نیشنل گارڈ اہلکار شدید زخمی ہوئے اور حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
محکمۂ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق ملزم 29 سالہ رحمان اللہ لاکن وال ہے، جو ستمبر 2021 میں افغانستان سے آپریشن ایلیز ویلکم کے تحت امریکا پہنچا تھا۔
رپورٹ کے مطابق اس نے 2024 میں پناہ کی درخواست دی تھی جو رواں سال منظور بھی ہو گئی تھی۔ حکام کے مطابق ملزم تفتیش میں تعاون نہیں کر رہا۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واقعے کو دہشت گردی کا عمل قرار دیتے ہوئے کہا کہ وہ ایسے تمام غیر ملکیوں کے خلاف سخت کارروائیاں کریں گے جنہیں امریکا میں جگہ نہیں ہونی چاہیے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اب افغانستان سے صدر بائیڈن کے دور میں آنے والے ہر ایک شخص کا ازسرِ نو جائزہ لینا ہوگا۔
یاد رہے کہ 2021 میں افغانستان سے امریکی انخلا کے بعد ہزاروں افغان شہری خصوصی امیگریشن پروگرام کے تحت امریکا منتقل ہوئے تھے۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات جاری ہیں اور مزید فیصلے بعد میں متوقع ہیں۔
