شہر قائد میں کے الیکٹرک کی مسلسل بریک ڈاؤنز اور کیبل فالٹس نے شہر کے واٹر پمپنگ اسٹیشنز کو مفلوج کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کراچی کو اب تک 335 ملین گیلن پانی کی کمی کا سامنا کرنا پڑ چکا ہے۔
کراچی واٹر اینڈ سیوریج کارپوریشن کے ترجمان نے بتایا کہ شہر کا سب سے بڑا پمپنگ اسٹیشن “کے تھری” گزشتہ رات 12 بجے سے ایک بار پھر بند پڑا ہے۔
17 گھنٹے گزر جانے کے باوجود کے الیکٹرک کیبل فالٹ ٹھیک کرنے میں ناکام ہے۔ صرف چند روز قبل 18 نومبر کو بھی یہی اسٹیشن 41 گھنٹے بند رہا، بجلی بحال ہوئی تو چند گھنٹوں بعد دوبارہ فالٹ آ گیا۔
![]()
اس سے قبل 17، 15، 13، 11 اور 5 نومبر کو بھی دھابیجی اور کے تھری سٹیشنز پر بار بار کیبل فالٹس کی وجہ سے طویل بریک ڈاؤنز ہو چکے ہیں۔
ترجمان کے مطابق ان مسلسل بندشوں کی وجہ سے نارتھ ناظم آباد، گلبرگ، گلستانِ جوہر، اسکیم 33، گلشنِ اقبال، نیو کراچی، صدر، کلفٹن سمیت شہر کے بیشتر علاقوں میں پانی کی شدید قلت پیدا ہو گئی ہے۔
کئی علاقوں میں تو تین چار دن سے نلکوں میں پانی کا قطرہ تک نہیں آیا۔

واٹر بورڈ حکام نے کہا ہے کہ کے الیکٹرک کو کئی بار تحریری اور زبانی طور پر آگاہ کیا جا چکا ہے کہ پمپنگ اسٹیشنز کی بجلی کی فراہمی انتہائی حساس نوعیت کی ہے، لیکن انتظامیہ کی طرف سے کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کیے جا رہے۔
ترجمان کا کہنا ہے کہ ہم اپنی پوری کوشش کر رہے ہیں لیکن جب تک بجلی مستقل نہیں ملے گی، پانی کی فراہمی بحال نہیں ہو سکتی۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ لوڈشیڈنگ کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت نے زندگی اجیرن کر دی ہے، متعدد علاقوں میں ٹینکر مافیا من مانی قیمتیں وصول کر رہا ہے جبکہ غریب عوام شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
واٹر کارپوریشن نے کے الیکٹرک سے مطالبہ کیا ہے کہ پمپنگ اسٹیشنز کی لائنز کو فوری اور مستقل بنیادوں پر بحال کیا جائے تاکہ شہر کا پانی کا نظام دوبارہ فعال ہو سکے۔ فی الحال کراچی کے شہری پانی اور بجلی دونوں کے بحران کی دوہری مار جھیلنے پر مجبور ہیں۔
