خواتین صحافیوں کی توہین ، طالبان وزیر خارجہ کا دورہ مودی سرکار کے گلے پڑ گیا ۔ مودی حکومت کی جانب سے امیر متقی کی پریس کانفرنس میں خواتین صحافیوں کوروکنے پر ہنگامہ کھڑا ہوگیا ۔
اپوزیشن کی جانب سے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لے لیا گیا ۔ خواتین صحافیوں کی جانب سے مودی سرکار پر تابڑ توڑ قلمی حملے جاری ہیں۔
اس حوالے سے خوب لکھا اور نشر کیا جارہاہے۔ دوسری جانب اپوزیشن رہنما بھی میدان میں آگئے ۔ جنہوں نے مودی سرکار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایاہے ۔
راہول گاندھی نے اپنے ایکس اکاؤنٹ پرلکھاکہ خواتین کو ہر میدان میں برابر کی شرکت کا حق حاصل ہے۔ اس واقعے سے واضح پیغام جاتا ہے کہ مودی سرکار خواتین کے حق میں کھڑے ہونے کیلیے انتہائی کمزورہے۔
کانگریس رہنما پریانکا گاندھی نے بھی اس معاملے پر مودی سے وضاحت طلب کی ہے۔
Mr. Modi, when you allow the exclusion of women journalists from a public forum, you are telling every woman in India that you are too weak to stand up for them.
In our country, women have the right to equal participation in every space. Your silence in the face of such… https://t.co/FyaxxCteK6
— Rahul Gandhi (@RahulGandhi) October 11, 2025
سینئر کانگریس رہنما پی چدمبرم نے کہاکہ مرد صحافیوں کوبھی پریس کانفرنس سے واک آؤٹ کر دینا چاہیے تھا۔
I am shocked that women journalists were excluded from the press conference addressed by Mr Amir Khan Muttaqi of Afghanistan
In my personal view, the men journalists should have walked out when they found that their women colleagues were excluded (or not invited)
— P. Chidambaram (@PChidambaram_IN) October 11, 2025
واضح رہے کہ نئی دہلی میں افغان وزیرِ خارجہ امیر خان متقی کی پریس کانفرنس منعقد کی گئی تھی ۔ جس میں خواتین صحافیوں کو شرکت سے روک دیا گیاتھا۔
کہا جارہا ہے کہ یہ روک امیر خان متقی کی خواہش پر لگائی گئی تھی ۔ جس پر ملک بھر میں سخت ردِعمل سامنے آیا۔
