اسٹیٹ بینک نے سال 2026 کی دوسری زری پالیسی رپورٹ جاری کردی
زیرِ جائزہ عرصے کے دوران ملکی معاشی حالات کو جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں نے نمایاں طور پر متاثر کیا، اسٹیٹ بینک
کراچی: اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے سال 2026 کی دوسری زری پالیسی رپورٹ جاری کردی جس میں زری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں کی وجوہات اور ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے مطابق رپورٹ کے اجرا کا مقصد زری پالیسی کمیٹی کے موقف اور فیصلہ سازی کے عمل کو عوام کے سامنے مزید شفاف انداز میں پیش کرنا ہے۔
رپورٹ میں جنوری 2026 سے اب تک زری پالیسی کمیٹی کے فیصلوں کا سبب بننے والی معاشی پیش رفت اور مستقبل کے منظرنامے کا جائزہ لیا گیا ہے۔
زری پالیسی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ زیرِ جائزہ عرصے کے دوران ملکی معاشی حالات کو جغرافیائی اور سیاسی تبدیلیوں نے نمایاں طور پر متاثر کیا۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا کہ فروری کے آخر میں مشرقِ وسطیٰ میں تنازع شروع ہونے کے باعث عالمی سطح پر توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوا اور رسد کے مسائل پیدا ہوئے۔
اسٹیٹ بینک کا کہنا ہے کہ اس بڑے معاشی دھچکے کے باوجود مالی سال 2026 کے اقتصادی نتائج بڑی حد تک زری پالیسی کمیٹی کی پیش گوئیوں کے مطابق رہے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اسٹیٹ بینک کی محتاط زری پالیسی توانائی کی قیمتوں میں اضافے کے اثرات کو محدود کرنے میں مددگار ثابت ہورہی ہے۔
