معروف شاعر سیف الدین سیف کو مداحوں سے بچھڑے 33 برس بیت گئے
فلمی دنیا میں مصروف رہنے کے باوجود سیف الدین سیف کا ادبی سفر بھی جاری رہا
پاکستان کے نامور شاعر، نغمہ نگار اور فلم ساز سیف الدین سیف کی 33ویں برسی آج منائی جا رہی ہے۔
سیف الدین سیف 20 مارچ 1922 کو امرتسر کے ایک ادبی گھرانے میں پیدا ہوئے۔ قیامِ پاکستان کے بعد وہ ہجرت کرکے پاکستان آئے اور لاہور میں فلمی صنعت سے وابستہ ہو گئے جہاں انہوں نے بطور نغمہ نگار اپنی منفرد پہچان بنائی۔
انہوں نے متعدد مقبول فلموں کے لیے یادگار نغمات تحریر کیے جن میں ہچکولے، سات لاکھ، امراؤ جان ادا، انارکلی، نویلی دلہن، لختِ جگر، تہذیب، انجمن اور شمع پروانہ سمیت کئی فلمیں شامل ہیں۔
فلمی دنیا میں مصروف رہنے کے باوجود سیف الدین سیف کا ادبی سفر بھی جاری رہا۔ ان کے شعری مجموعوں میں خمِ کاکل، کفِ گل فروش اور دور دراز شامل ہیں جنہیں اردو ادب میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے۔
سیف الدین سیف کی شاعری میں معاشرتی مسائل، انسانی جذبات اور زندگی کی حقیقتوں کی بھرپور عکاسی ملتی ہے جس کی بدولت وہ اردو ادب اور فلمی نغمہ نگاری کے نمایاں ناموں میں شمار ہوتے ہیں۔
سیف الدین سیف 12 جولائی 1995 کو انتقال کر گئے تھے اور آج ان کی برسی کے موقع پر اہلِ ادب، فنکار اور مداح ان کی ادبی و فنی خدمات کو خراجِ عقیدت پیش کر رہے ہیں۔
