کیا آپ ’ہارر موویز‘ کے شوقین ہیں؟ وہ فلمیں جو دہائیوں بعد بھی ذہنوں میں زندہ ہیں
ہارر فلموں کے وہ شاہکار جو آج بھی ناظرین کو چونکا دیتے ہیں
ہالی ووڈ میں ہر سال بڑی تعداد میں ہارر فلمیں ریلیز ہوتی ہیں تاہم بہت کم فلمیں ایسی ہوتی ہیں جو وقت گزرنے کے باوجود اپنی مقبولیت اور اثر برقرار رکھ سکیں۔
کچھ کلاسک ہارر فلمیں آج بھی نئی نسل کے ناظرین میں اسی دلچسپی کے ساتھ دیکھی جاتی ہیں جس طرح اپنے وقت میں دیکھی گئی تھیں اس کی بڑی وجہ صرف خوفناک مناظر نہیں بلکہ مضبوط کہانی، مؤثر ہدایت کاری، آوازوں کا استعمال اور ایسا ماحول ہے جو فلم ختم ہونے کے بعد بھی ذہن پر اثر چھوڑ دیتا ہے۔
ہارر سنیما کی تاریخ میں 1973 کی فلم The Exorcist کو ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔ ولیم فریڈکن کی ہدایت کاری میں بننے والی اس فلم نے نہ صرف تجارتی کامیابی حاصل کی بلکہ اسے اکیڈمی ایوارڈز میں نامزدگی بھی ملی جو اس صنف کے لیے ایک غیر معمولی اعزاز تھا۔ آج بھی اسے ہارر سنیما کی سب سے بااثر فلموں میں شمار کیا جاتا ہے۔
نفسیاتی خوف کی بات کی جائے تو 1980 کی The Shining کا ذکر ضروری ہے۔ اسٹیفن کنگ کے ناول پر مبنی اس فلم کو اسٹینلے کبرک نے ڈائریکٹ کیا جبکہ جیک نکلسن کی اداکاری کو فلمی تاریخ کی یادگار پرفارمنسز میں شمار کیا جاتا ہے۔ ابتدا میں ملے جلے ردعمل کے باوجود وقت کے ساتھ یہ فلم ایک کلاسک کا درجہ حاصل کر چکی ہے۔
1999 میں The Blair Witch Project نے ہارر فلموں کے انداز کو بدل کر رکھ دیا۔ کم بجٹ میں بننے والی اس فلم نے ”فاؤنڈ فوٹیج“ طرز کو عالمی سطح پر مقبول بنایا اور یہ تاثر دیا کہ کم وسائل کے باوجود بھی ایک مؤثر ہارر تجربہ پیش کیا جا سکتا ہے۔
اسی روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے 2007 میں Paranormal Activity نے غیر معمولی کامیابی حاصل کی۔ سادہ انداز، گھریلو ماحول اور خاموشی کے ذریعے خوف پیدا کرنے کی تکنیک نے اسے ایک منفرد مقام دیا۔
گزشتہ برسوں میں ہارر فلموں نے صرف خوف تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ سماجی اور نفسیاتی موضوعات کو بھی شامل کیا ہے۔ 2017 کی Get Out اس کی نمایاں مثال ہے جس نے بہترین اوریجنل اسکرین پلے کا اکیڈمی ایوارڈ بھی جیتا اور جدید ہارر سنیما میں ایک اہم سنگ میل ثابت ہوئی۔
اسی طرح A Quiet Place نے خاموشی کو کہانی کا مرکزی عنصر بنا کر ایک منفرد تجربہ پیش کیا جہاں معمولی آواز بھی خطرے کا باعث بن سکتی ہے۔
ہارر فلموں کی دنیا میں The Conjuring سیریز بھی خاص مقام رکھتی ہے جس نے مافوق الفطرت واقعات پر مبنی کہانیوں کو ایک مشترکہ فلمی کائنات میں پیش کیا اور عالمی سطح پر بڑی کامیابی حاصل کی۔
ان تمام فلموں میں ایک مشترک بات یہ نظر آتی ہے کہ خوف صرف ظاہری مناظر سے نہیں بلکہ ماحول، موسیقی، کیمرہ اینگلز اور کرداروں کی نفسیات سے پیدا کیا جاتا ہے۔
آج اسٹریمنگ پلیٹ فارمز کے دور میں یہ کلاسک ہارر فلمیں ایک بار پھر نئی نسل تک پہنچ رہی ہیں اور اپنی اہمیت برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
