خفیہ ڈرافٹ کی تفصیلات لیک؟ ایرانی رکن پارلیمنٹ کے دعووں نے عالمی سیاست ہلا دی
کسی بھی فریق کی جانب سے اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی
ایران کی پارلیمنٹ کی اقتصادی کمیٹی کے سیکریٹری میثم زہوریان نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان زیرِ غور ایک ابتدائی مفاہمتی ڈرافٹ میں کئی غیر معمولی اور بڑے نکات شامل ہیں جو اگر آگے بڑھتے ہیں تو خطے کی صورتحال میں بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔
میثم زہوریان کے مطابق مجوزہ فریم ورک میں 30 دن کے اندر بحری پابندیوں میں نرمی، خطے سے امریکی افواج کے انخلا اور آبنائے ہرمز کی بحالی جیسے اقدامات شامل ہیں جنہیں وہ ابتدائی امن خاکہ قرار دیتے ہیں۔
ایک ایرانی ویب سائٹ نے میثم زہوریان کے دعوے کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ ڈرافٹ میں یہ بھی شامل ہے کہ فریقین کے درمیان تنازع کے خاتمے کا اعلان کیا جائے گا لبنان سمیت خطے میں کشیدگی کم کرنے پر اتفاق ہوگا، اور ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کیا جائے گا۔
ایرانی رکن کے مطابق مجوزہ معاہدے میں 60 دن کی مذاکراتی مدت رکھی گئی ہے جس میں باہمی رضامندی سے توسیع بھی ممکن ہوگی۔ اسی دوران ایک بڑا نکتہ یہ بھی بتایا جا رہا ہے کہ اگر حتمی معاہدہ طے پا جاتا ہے تو ایران کے لیے 300 ارب ڈالر کے تعمیر نو پروگرام پر بھی غور کیا جائے گا۔
ڈرافٹ میں امریکی پابندیوں کے خاتمے، تیل و پیٹروکیمیکل برآمدات میں نرمی اور ایران کے منجمد اثاثوں کی مرحلہ وار بحالی جیسے پہلو بھی شامل ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔
ایٹمی پروگرام سے متعلق شقوں میں ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی اور افزودہ یورینیم سمیت دیگر حساس معاملات پر مشترکہ فریم ورک بنانے کی بات کی گئی ہے۔
تاہم یہ تمام معلومات ایک ایرانی قانون ساز کے سوشل میڈیا دعوے پر مبنی ہیں اور کسی بھی فریق کی جانب سے اس کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی گئی۔
