بنگلہ دیش نے رواں سیریز میں پاکستانی ٹیم کو کلین سوئپ ہی نہیں کیا بلکہ عاقب جاوید کے منہ پر طمانچہ بھی رسید کیا ہے جنہوں نے جیت کا فارمولا ایسی کرکٹ کو بنا دیا تھا جس نے جیسے تیسے ایک دو ٹیسٹ تو جیت لیے لیکن ٹیم کو مزید تنزلی کا شکار کردیا۔
پنکھا پچوں پر دوسرے درجہ کے دو اسپنرز سے غیر ملکی ٹیموں کو آؤٹ کرنے کے فارمولے نے پاکستانی فاسٹ بولرز کا مستقبل ہی نہیں تاریک کیا بلکہ بلے بازوں کو بھی کاہل بنادیا۔
پاکستان جس کی فاسٹ بولنگ کا طوطی بولتا تھا اور دنیا میں دہشت تھی عمران خان وسیم اکرم وقار یونس شعیب اختر وہ بولرز تھے جنہوں نے تن تنہا اپنی بولنگ سے میچز جتوائے تھے آج ان کی پیروی کرنے کو کوئی تیار نہیں کیونکہ ان کی ضرورت نہیں ہے ملکی سیریز پنکھا پچ جتوادے گی اور ملک سے باہر شرمناک شکست کی کسی کو پرواہ ہے نہ افسوس۔
بنگلہ دیش نے جب پہلے ٹیسٹ میں ایک گرین پچ بنائی تو آسٹریلین مبصرین تک حیران تھے کیونکہ بنگلہ دیش جیسی ٹیم جس نے ساری کرکٹ اسپنرزکے بل بوتے پر کھیلی ہے وہ پاکستان کو فاسٹ بولنگ سے زیر کرنا چاہتی ہے اور سچ تو یہ ہے کہ اس نے کر بھی لیا، گھر کے کاغزی بادشاہوں نے جو پی ایس ایل میں تیسرے درجہ کی بولنگ کے خلاف رنز کے ڈھیر لگاکر خود کو کنگ سمجھتے تھے بنگلہ دیش کے اوسط درجہ کے فاسٹ بولرز کے سامنے ڈھیر ہوگئے۔
اگر دونوں ٹیسٹ میں پاکستان کی بیٹنگ دیکھیں تو کسی بھی لمحہ اس میں جیت کی تڑپ یا مقابلہ کی لگن نظر نہیں آئی بلے بازوں میں صلاحیت کی کمی اس قدر تھی کہ ایسی گیندوں پر آؤٹ ہوتے رہے جن پر نہیں ہونا چاہیے تھا بولرز میں ڈسپلن کا فقدان تھا پچ کو سمجھے بغیر بولنگ نے بنگلہ دیش کو مشکل صورتحال سے اطمینان بخش میں پہنچادیا۔
بدترین کپتانی
پاکستان کرکٹ بورڈ اور ایک طفل مکتب کارویہ ایک جیسا ہے جس طرح طفلانہ ضد سخت اور شدید ہوتی ہے اسی طرح پی سی بی بھی بضد ہے کہ جتنے بھی ٹیسٹ ہار جائیں کپتان تو شان مسعود ہی ہوگا اس ضد نے ٹیم کو مزید بدتر بنادیا ہے پی سی بی میں کرکٹ ٹیم کے معاملات سو فیصد عاقب جاوید کے ہاتھ میں ہیں اور وہ کسی بھی مشورے پر کان نہیں دھرنا چاہتے شاید وہ اپنے دور کی زیادتیوں کا بدلہ موجودہ ٹیم سے لے رہے ہیں۔
اگر اس سیریز میں بنگلہ دیشی کپتان نجم الحسن شانتو اور شان مسعود کا موازنہ کیا جائے تو فرق واضح نظر آتا ہے شنتو نے جارحانہ کپتانی کی بروقت فیصلے کیے اور اپنے فیصلوں پر بھروسہ کیا ان کی سب سے اچھی بات یہ تھی کہ وہ کھیل پر مکمل نگاہ رکھتے تھے ہر گیند پر نظر اور اس کا مکمل جائزہ لیتے تھے جس سے وہ ڈی آر ایس لینے کا فیصلہ خود کرتے تھے اس کے برعکس شان مسعود کی غیر حاضر دماغی اس قدر تھی کہ ریویو کے لیے کھلاڑیوں سے پوچھتے تھے خود پر بھروسہ تھا اور نہ اعتماد ہر ریویو کے لیے ساتھی کھلاڑیوں سے بے چینی سے پوچھنا آپ کی لاشعوری کی مثال تھی۔
بیٹنگ میں بھی شان مسعود ایک اننگز کے علاوہ ناکام رہے آخری اننگز میں 71 رنز تو بنائے لیکن ایسے وقت میں جب وہ سیٹ ہوچکے تھے تو ہدف کے تعاقب میں کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آئی مجموعی طور پر وہ شکست سے پہلے ہی شکست خوردہ نظر آئے۔
بے جان بولنگ
پاکستانی بولرز نے دونوں ٹیسٹ میں معمولی بولنگ کی محمد عباس خرم شہزاد نے وکٹیں تو لی لیکن وہ بنگلہ دیشی بیٹنگ کو پریشان نہ کرسکے پاکستانی بولرز کی رفتار بھی کم رہی بنگلہ دیش کے بولر ناہد رانا جہاں 146 کلو میٹر کی رفتار سے بولنگ کررہے تھے وہاں پاکستانی بولرز بمشکل تمام 135 پر پہنچ پارہے تھے محمد عباس تو 120 کی رفتار سے بولنگ کرتے رہے رفتار کی کمی نے بنگلہ دیش کے ٹیل اینڈرز کو سنبھل کر کھیلنے کا موقع فراہم کردیا۔
پچ پر گھاس ہونے کے باوجود پاکستانی بولرز دونوں ٹیسٹ میچز کی پہلے دن فائدہ نہ اٹھاسکے ایک ایسی پچ جس پر سیم بھی تھا اور بادلوں کے باعث سوئنگ کی سہولت، لیکن کوئی بھی بولر متاثر نہ کرسکا حسن علی دونوں ٹیسٹ میں معاون اداکار ہی ثابت ہوئے۔
شاہین شاہ آفریدی جو خود کو دنیا کے بہترین بولرز میں شمار کرتے ہیں ٹیم کے لیے مایوسی کی دیوار ہی ثابت ہوئے دوسرے ٹیسٹ میچ کی دوسری اننگز میں بنگلہ دیش ایک موقع پر مشکلات میں گھر چکا تھا لیکن پاکستانی بولرز فنش نہ کرسکے۔
بنگلہ دیش کے اسپنرز نے تو شاندار بولنگ کی لیکن پاکستانی اسپنرز نے سخت مایوس کیا ساجد خان پچ پر موجود اسپن کے باوجود فائدہ نہ اٹھاسکے نعمان علی کی بولنگ بھی مایوس کن تھی۔
بے ربط اور منتشر بیٹنگ
پاکستان کی بیٹنگ ایک منتشر اور خبط الحواس ذہن کی آئینہ دار تھی اگرچہ دو نوجوان بلے بازوں اذان اویس اور عبداللہ فضل نے اپنے کیریئر کا آغاز کیا اور باقی تمام بلے بازوں سے بہتر رہے اذان اویس نے جم کر بیٹنگ کی اور اپنے بھرپور اعتماد کامظاہرہ کیا پہلے ٹیسٹ میں ڈیبیو پر سنچری کرکے خوب داد سمیٹی لیکن ان دو کے علاوہ کوئی بلے باز بھی سود مند اننگز نہ کھیل سکا بابر اعظم شان مسعود سلمان آغا اور محمد رضوان نے نصف سنچری بنائی لیکن بے ربط اور بے ترتیب بیٹنگ کے باعث پاکستان شکست سے نہ بچ سکا اس سیریز نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ پاکستانی بلے باز محض اپنے چند رنز کے لیے کھیلتے ہیں تاکہ اگلی سیریز کھیل سکیں کسی بھی بلے باز نے ذمہ دارانہ بیٹنگ نہیں کی۔
سعود شکیل جو گزشتہ ایک سال سے مسلسل ناکام ہورہے ہیں ایک بار پھر بدترین بیٹنگ کی حیرت انگیز طور پر ان پر کوئی تنقید ہوتی ہے اور ڈراپ کرنے کی بات اسی طرح امام الحق بھی ایک چلے ہوئے کارتوس ثابت ہورہے ہیں۔
کوچ کہیں نظر نہیں آئے
پاکستان کرکٹ بورڈ نے اس سیریز میں دو دوستوں کو کوچ بنایا سرفراز احمد اور اسد شفیق اپنے وقت کے عمدہ کھلاڑی رہے ہیں لیکن کوچنگ اور گیم مینیجمنٹ کا انہیں بالکل ادراک ہے اور نہ تجربہ ان دونوں نے کسی کلب ٹیم کی بھی کوچنگ ابھی تک نہیں کی ہے لیکن انھیں قومی ٹیم کی کوچنگ موتیوں بھرا تحفہ دے دیا گیا ان کے پاس کوئی منصوبہ بندی تھی اور نہ حکمت عملی۔ سب سے بڑھ کر جن کھلاڑیوں کے ساتھ چند سال پہلے تک کھیل رہے تھے اب ان کے استاد کیسے بن سکتے ہیں سرفراز کی گیم پلاننگ میں کمزوریوں نے انھیں مزید نااہل ثابت کردیا ہے۔
مسلسل شکستوں پر کوئی فکر نہیں
دوسرے ٹیسٹ کے بعد شان مسعود کی پریس کانفرنس نے ثابت کردیاکہ بنگلہ دیش جیسی ٹیم کے خلاف بھی شکست پر کوئی ندامت ہے اور نہ پریشانی ان سے جب مسلسل شکستوں کا پوچھا گیا تو اسے کم ٹیسٹ میچز ملنا وجہ قرار دے دیا۔
شان مسعود جو قطعی طور پر کپتانی کے اہل نہیں ہیں بلکہ ٹیم میں شمولیت کے بھی حقدار نہیں ہیں لیکن بابر اعظم کے عاقب جاوید کے ساتھ اختلافات نے انہیں بنا محنت کے کپتان بنوادیا ہے تیرہ سال پہلے اپنے ٹیسٹ کیریئر کا آغاز کرنے والے شان مسعود آج تک کوئی قابل ذکر اننگز نہیں کھیل سکے محض 30 رنز لی اوسط کے باوجود قومی ٹیم کے کپتان قائم رہنے میں یقینی طور پر نادیدہ قوتوں کی سرپرستی کا کمال ہے اگر وہ کسی اور ملک میں ہوتے تو فرسٹ کلاس کرکٹ سے آگے نہیں جاسکتے تھے 16 میں سے 12 ٹیسٹ ہار کر وہ پاکستان کے سب سے زیادہ ناکام کپتان بن چکے ہیں۔
اب مستقبل کیا ہے
پاکستان کرکٹ ٹیم کی پے درپے شکستوں کے بعد یہ کہنا بالکل مناسب ہے کہ پاکستان ٹیم کے لیے اب مناسب ہوگا کہ وہ یوگنڈا اور کینیا کے ساتھ میچز کھیلے ٹیم میں اسوقت کوئی بلے باز بھی اتنی صلاحیت نہیں رکھتا کہ وہ کسی بھی ٹیسٹ اسٹیٹس رکھنے والی ٹیم کے خلاف جم کر بیٹنگ کرسکے اور بولرز میں اتنی صلاحیت نہیں ہے کہ کسی بھی بلے باز کو پریشان کرسکیں۔
پی ایس ایل میں نچلے درجہ کے بولرز کے خلاف بڑی اننگز کھیلنے والے پاکستانی سورما اسی لیے انٹرنیشنل کرکٹ میں ناکام ہیں کیونکہ وہ کمزور بولنگ کھیلنے کے عادی ہیں انہیں جس طرح ناہید رانا تسکین احمد اور تاج الاسلام نے بولنگ کرکے پریشان کیا اس کے بعد یہ سوچنا بھی عبث ہے کہ یہ ٹیم کسی بڑی ٹیم کے خلاف کھیل سکتی ہے۔
پی سی بی سنجیدگی سے سوچنا ہوگاکہ پاکستان ٹیم اب صرف یوگنڈا کینیا اور نیپال جیسی ٹیموں کے خلاف سیریز کھیلے اور جیت کر وزیراعظم کی مبارکباد حاصل کرتی رہے کیونکہ موجودہ ٹیم کو معیاری کرکٹ سے دلچسپی نہیں ہے۔
