ہمارے پاس آپشن بی یہی ہے کہ ایران پر حملے شروع کریں مگر ٹرمپ نہیں چاہتے، جے ڈی وینس
ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنے کے اہداف حاصل کیے جاچکے ہیں، امریکی نائب صدر
واشنگٹن: وائٹ ہاؤس میں پریس بریفنگ کے دوران امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ ہمارے پاس آپشن بی یہی ہے کہ ایران پر دوبارہ حملے شروع کریں مگر ٹرمپ نہیں چاہتے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا کا واضح مؤقف ہے کہ ایران کے پاس ایٹمی ہتھیار نہیں ہوسکتے جب کہ ایران سے متعلق دو ہی راستے موجود ہیں اور دنیا کے زیادہ تر ممالک بھی یہی چاہتے ہیں کہ ایران ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرے کیونکہ اس سے دیگر ممالک میں بھی اس دوڑ کے شروع ہونے کا خدشہ ہے۔
امریکی نائب صدر کے مطابق ایران کی عسکری صلاحیت کو محدود کرنے کے اہداف حاصل کیے جاچکے ہیں۔ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران سے مذاکرات پر زور دیا تھا، اسلام آباد اس مقصد کے لیے گئے تھے کہ ایران کے ساتھ معاہدہ ممکن بنایا جائے اور وہاں 22 گھنٹے مذاکرات میں گزارے گئے۔
جے ڈی وینس نے کہا ایران کے ساتھ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے تاہم حتمی معاہدہ ابھی طے نہیں پایا۔ اگر معاہدہ نہ ہوا تو دوسرا راستہ ایران پر دوبارہ کارروائی کا ہوسکتا ہے تاہم امریکی صدر نہیں چاہتے کہ دوبارہ حملے ہوں۔
نائب صدر نے کہا کہ ایران کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کا اس وقت موقع موجود ہے لیکن ایران کی مذاکراتی ٹیم سخت مؤقف اختیار کیے ہوئے ہے اور بعض اوقات ان کی پوزیشن واضح نہیں ہوتی۔
انہوں نے کہا کہ ایران کے جوہری پروگرام پر صرف یقین دہانی نہیں چاہتے بلکہ عملی طور پر مشترکہ تعاون چاہتے ہیں۔ امریکا نے واضح کردیا ہے کہ ایٹمی ہتھیار اس کے لئے ریڈ لائن ہیں اور کوئی ایسا معاہدہ قبول نہیں کیا جائے گا جو ایران کو اس سمت لے جائے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے یورینیم کی روس منتقلی سے متعلق کوئی معاملہ زیر غور نہیں اور نہ ہی اس پر کوئی باضابطہ بات ہوئی ہے۔ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیار حاصل کیے تو دنیا میں اسلحہ کی نئی دوڑ شروع ہونے کا خطرہ ہے۔
