دشمن کے سامنے جھکنا ہماری تاریخ نہیں، ایرانی صدر کا واضح پیغام
جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں کی غیرقانونی ناکہ بندی جاری ہے
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے واضح کیا ہے کہ دشمن کے سامنے جھکنا ہماری تاریخ نہیں، مذاکرات کا مقصد قومی مفادات اور حقوق کا دفاع کرنا ہے، نہ کہ کسی دباؤ کے سامنے جھکنا۔
غیر ملکی میڈیا کی رپورٹس کے مطابق مسعود پزشکیان نے اپنے بیان میں کہا کہ دشمن کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنا ایران کی تاریخ اور پالیسی کا حصہ نہیں۔ سفارتی کوششوں کا بنیادی مقصد ایرانی مفادات کا تحفظ اور خطے میں استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
ایرانی صدر نے الزام عائد کیا کہ جنگ بندی کے باوجود ایرانی بندرگاہوں کی غیرقانونی ناکہ بندی جاری ہے جو کیے گئے وعدوں اور معاہدوں کی خلاف ورزی کے مترادف ہے، یہ اقدامات خطے میں اعتماد سازی کی کوششوں کو متاثر کر رہے ہیں۔
دوسری جانب ایرانی سرکاری میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ تہران نے امریکی تجاویز کے جواب میں اپنا مؤقف پاکستان کے ذریعے واشنگٹن تک پہنچا دیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق جنگ کے خاتمے سے متعلق ایرانی جواب اسلام آباد کو ارسال کیا گیا جبکہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کر رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق تہران کی جانب سے بھیجے گئے جواب میں جنگ بندی، خلیجی خطے میں استحکام اور آبنائے ہرمز میں بحری سلامتی جیسے اہم نکات پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
