عالمی معیشت خطرے سے دوچار، تیل کی قیمت 119 ڈالر فی بیرل سے زائد ہو گئی
عالمی تاریخ میں تیل کی بلند ترین قیمت تقریباً 147 ڈالر فی بیرل 2008 میں ریکارڈ کی گئی تھی
عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں نے ہنگامہ خیز چھلانگ لگا دی ہے اور ایران سے جاری جنگی صورتحال کے باعث خام تیل کی قیمتیں 2022 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
بین الاقوامی مارکیٹ میں پیر کے روز برینٹ کروڈ کی قیمت ایک مرحلے پر 119.50 ڈالر فی بیرل تک جا پہنچی، جو کئی برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔
اسی طرح امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ خام تیل بھی 119.48 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گیا۔
تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق برینٹ کروڈ فی الحال تقریباً 101.46 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہو رہا ہے جبکہ امریکی ڈبلیو ٹی آئی خام تیل کی قیمت 98.82 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکی ہے، جو ایک ہی دن میں نمایاں اضافے کو ظاہر کرتی ہے۔
ماہرین کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے 28 فروری کو ایران پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں شدید بے چینی پیدا ہوگئی ہے، جس کے باعث برینٹ کروڈ کی قیمتوں میں تقریباً 66 فیصد جبکہ ڈبلیو ٹی آئی میں 77 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ مزید پھیلا تو تیل کی سپلائی شدید متاثر ہوسکتی ہے اور عالمی منڈی میں قیمتوں میں مزید بڑا اضافہ دیکھنے کو مل سکتا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق فوری فراہمی والے برینٹ کنٹریکٹس کی قیمت آئندہ چھ ماہ کی ڈیلیوری کے مقابلے میں تقریباً 36 ڈالر زیادہ ہوگئی ہے، جو اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ مارکیٹ کو تیل کی سپلائی میں شدید کمی کا خدشہ ہے۔
واضح رہے کہ عالمی تاریخ میں تیل کی بلند ترین قیمت تقریباً 147 ڈالر فی بیرل 2008 میں ریکارڈ کی گئی تھی، تاہم موجودہ صورتحال میں ماہرین کو خدشہ ہے کہ اگر جنگ طویل ہوگئی تو قیمتیں اس ریکارڈ کے قریب بھی پہنچ سکتی ہیں۔
