ایرانی صدر کی پڑوسی ممالک سے معذرت، حملوں میں پہل نہ کرنے کا اعلان
ذاتی طور پر ان پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہیں جن پر ایرانی میزائل یا ڈرون حملے ہوئے، مسعود پزشکیان
ایران کے صدر نے پڑوسی ممالک پر ایران کی جانب سے کیے گئے حملوں پر معذرت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران آئندہ ہمسایہ ممالک کے خلاف حملے میں پہل نہیں کرے گا۔
ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے ہفتے کے روز بیان میں کہا کہ وہ ذاتی طور پر ان پڑوسی ممالک سے معذرت خواہ ہیں جن پر ایرانی میزائل یا ڈرون حملے ہوئے۔
انہوں نے کہا کہ آئندہ ایران کسی ہمسایہ ملک پر حملہ نہیں کرے گا جب تک اس پر پہلے حملہ نہ کیا جائے اور مسائل کو سفارتکاری کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
رپورٹس کے مطابق ایران میں جنگ اس وقت شروع ہوئی جب 28 فروری کو ایک فضائی حملے میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنائی شہید ہوگئے، جس کے بعد ملک کو ایک عبوری قیادت کونسل چلا رہی ہے۔
ذرائع کے مطابق ایران کی پاسدارانِ انقلاب اب بھی میزائل پروگرام اور فوجی کارروائیوں پر بڑی حد تک خود مختار کنٹرول رکھتی ہے۔
مزید پڑھیں: ایران امریکا جنگ، 24 ہزار سے زائد پروازیں منسوخ، لاکھوں مسافر رُل گئے
دوسری جانب امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر فضائی حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے اسرائیل کو 151 ملین ڈالر کے نئے ہتھیاروں کی فروخت کی منظوری بھی دے دی ہے جبکہ امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کی اب تک کی سب سے بڑی بمباری مہم ابھی باقی ہے۔
ادھر ایرانی حملوں کے باعث خلیجی ممالک میں بھی ہنگامی صورتحال پیدا ہو گئی۔ بحرین میں سائرن بجائے گئے جبکہ سعودی عرب نے اپنے شائبہ آئل فیلڈ اور پرنس سلطان ایئر بیس کی جانب آنے والے ڈرون اور بیلسٹک میزائل تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔
اسی دوران دبئی میں بھی دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور دبئی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر فضائی دفاعی نظام فعال کر دیا گیا، جس کے بعد کچھ دیر کے لیے پروازیں معطل کر دی گئیں۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جاری جنگ میں ایران میں کم از کم 1230 افراد شہید ہو چکے ہیں جبکہ لبنان میں 200 سے زائد اور اسرائیل میں 11 افراد مارے گئے ہیں۔
دریں اثنا خلیجی ممالک نے خبردار کیا ہے کہ اگر جنگ مزید پھیلی تو عالمی معیشت کو شدید دھچکا لگ سکتا ہے اور تیل کی قیمتیں 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہیں۔
