آیت اللّٰہ خامنہ ای کی شہادت کے بعد نیا سپریم لیڈر کون ہوگا؟
ایرانی آئین کے مطابق عبوری قیادت کے لیے ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے
آیت اللہ علی خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران میں نئے سپریم لیڈر کے انتخاب کا عمل شروع ہو گیا ہے، جس نے ملک کے سیاسی مستقبل کے حوالے سے اہم سوالات کو جنم دیا ہے۔
ایرانی آئین کے مطابق عبوری قیادت کے لیے ایک کونسل تشکیل دی گئی ہے جو وقتی طور پر ریاستی امور سنبھالے گی، اس کونسل میں موجودہ صدر مسعود پزشکیان، عدلیہ کے سربراہ غلام حسین محسنی اژه ای اور نگہبان کونسل کے ایک رکن شامل ہیں۔ عبوری کونسل کو ایران کی ایکسپڈینسی کونسل نے منتخب کیا ہے۔
مستقل سپریم لیڈر کے انتخاب کے لیے جلد ہی مجلس خبرگان کو حتمی فیصلہ کرنا ہوگا۔ یہ 88 رکنی مذہبی اسمبلی شیعہ علماء پر مشتمل ہے اور اس کے ارکان عوامی انتخابات کے ذریعے منتخب ہوتے ہیں جبکہ ان کی اہلیت کی توثیق نگہبان کونسل کرتی ہے۔
موجودہ صورتحال میں ممکنہ امیدواروں کے حوالے سے قیاس آرائیاں جاری ہیں، تاہم انتخابی عمل عام طور پر خفیہ اور محدود مشاورت پر مبنی ہوتا ہے۔
اس سے قبل سخت گیر رہنما ابراہیم رئیسی کو ممکنہ جانشین سمجھا جا رہا تھا لیکن وہ مئی 2024 میں ایک ہیلی کاپٹر حادثے میں جاں بحق ہوگئے تھے۔
اس وقت یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای بھی ممکنہ امیدواروں میں شامل ہو سکتے ہیں، اگرچہ انہوں نے کبھی کسی سرکاری عہدے پر کام نہیں کیا۔
یاد رہے کہ ایران میں سپریم لیڈر کے دفتر میں قیادت کی منتقلی کا یہ دوسرا بڑا مرحلہ ہے۔ اس سے قبل 1989 میں روح اللہ خمینی کی وفات کے بعد اقتدار کی منتقلی ہوئی تھی۔
